عزتِ نفس اور قادیانی مسئلہ

شیخ صاحب پانچویں جماعت سے بارہویں تک ہمارے کلاس فیلو رہے۔ پڑھائی میں طاق نہ تھے مگر لوگوں سے معاملہ کرنے میں ہوشیار۔ خاندانی کاروبار میں شریک ہوئے تو خوب ترقی کی۔ ان کے گھر کا ماحول ویسا ہی تھا جیسے مڈل کلاس دیوبندی، پنجابی خاندانوں کا ہوتا ہے۔ اسی ماحول نے ان کے مذہبی اور اخلاقی اقدار کی تشکیل کی۔

چالیس کے ہوئے تو اچانک طبیعت نے پلٹا کھایا۔ کسی پلے بوائے کی روح گویا شیخ صاحب میں سرایت کر گئی۔ ان کے ذہن میں ہر وقت خواتین سے دوستی کرنے کا سودا سمایا رہتا۔ دوستوں سے بات کرتے تو اپنی کسی دوست کا قصہ، باہر جانا تو خواتین کا تاڑتے رہنا۔ کاروبار اچھا چل پڑا تھا سو سب کام فون پہ نمٹا لیتے۔ پیسہ سے زیادہ وقت میسرتھا۔ ایک دن بہت اصرار سے ہمیں لنچ کرانےلے گئے۔

وہاں شیخ صاحب کو لگا کہ نوجوان ویٹریس سے گوٹی فٹ ہو سکتی ہے۔ اب اُن کی ساری توجہ ویٹریس کی جانب اور ہماری جانب ان کا رویہ ایسا ہو گیا کہ گویا ہم عمرو عیار کی سلیمانی ٹوپی پہنے ہوئے ہیں۔ آدھ پون گھنٹہ بعد شیخ صاحب ویٹریس کا نمبر لیکر خوش خوش اٹھے مگر اس مسلسل بے اعتنائی پہ ہمارا موڈ شدید آف تھا۔ گاڑی میں بیٹھے تو ہم نے لگی لپٹی رکھے بنا خوب سنائیں۔ شیخ صاحب ہنس دئیے اور اپنے دفاع میں کہنے لگے کہ “دیکھیں جب سے میرے دل میں محبت کا جذبہ ابھرا ہے میں نرم دل ہو گیا ہوں۔ کوئی ملازم چھٹی مانگتا ہے، یا ایڈوانس چاہتا ہے تو فوراً دے دیتا ہوں۔ اوور ٹائم پہلے کی نسبت دُگنا کر دیا۔ “

ایک قدامت پسند خاندان میں پرورش پانے کے بعد، پلے بوائے بن جانے سے جو تناقص ان کی شخصیت میں ابھرا اس کی کمی وہ اپنے ملازمین سے بہتر رویہ اپنا کر کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ اور ہم سوچنے لگے کہ ایسی نیکی جو نفس کی ملامت کے ردِ عمل کے طور پہ کی جائے کتنی پائیدار ہوتی ہے؟ اس کا اجر کتنا ہوتا ہے؟

انسان اپنے طے کئے ہوئے خیر و شر کے پیمانوں پہ خود پورا نہیں اترتا تو مدافعتی طور پہ ایسے اعمال کی جانب مائل ہوتا ہے جس سے لوگوں کی ستائش باآسانی حاصل، پھر وہ ستائش عزتِ نفس (self esteem )بڑھانے کا کام دیتی ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ قادیانیوں کی جانب ہمارا رویہ اسی سہل ثواب اور ستائش کے حصول کا مظہر ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اللہ میاں ہمارے گناہ قادیانیوں کو دی ہوئی گالیوں کے عوض معاف کر دے گا۔ کیا اللہ کو چکر دینا اتنا ہی آسان ہے؟ فرمانِ باری تعالی ہے کہ :

اُدعُ الي سَبيلِ رَبِّك بالحكمة و الموعِظة الحَسَنة و جادِلࣿهم بالّتي هِي اَحسن

کیا مجادلہ و مناظرہ کے احکام جو اسلام میں طے کئے گئے ہیں، وہ ساکت ہو سکتے ہیں؟

اور یہ رویہ تقریباً ہر معاشرہ میں کسی نہ کسی اقلیت کے بارے میں پایا جاتا ہے۔ انڈیا میں کسی مسلمان کی پٹائی کر دینا حب الوطنی کے اظہار کا تیز ترین ذریعہ ہے۔ لیکن ایسا رویہ بعض اوقات اقلیت کو معاشرے سے علحدہ کرکے اپنے عقائد میں مزید پختہ کر دیتا ہے۔ مجھے قطعی اعداد و شمار کا علم نہیں لیکن جہاں تک سنا ہے ہمارے ہاں عیسائیت سے اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد، قادیانیت سے اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ کیا اس کی وجہ ہمارا رویہ تو نہیں ہے؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s