ڈاکٹر صبیحہ

ہماری ٹریننگ شروع ہوئی تو ڈاکٹر صاحبہ ہماری سینئر تھیں۔ ہمدرد، مشفق، خلیق اور حلیم۔ سپید رنگ، ناک تیکھا مگر چہرے کی نسبت ذرا چھوٹا، جس پہ موٹے شیشوں کی عینک جو اکثر پھسل کر نیچے کو آجاتی اور یہ اس کو بار بار انگلی سے ٹھیک کرتی رہتیں۔ چہرے پہ اتنی سنجیدگی کہ بچپن کی فوٹو میں بھی پچپن کی محسوس ہوتیں مگر ہنستی تو پورے بدن کو شریکِ انبساط کرتیں۔

صبر و تحمل کے ساتھ مریض کسی بات سنتیں، آرام سے علاج کے بارے میں سمجھاتیں ۔ نوٹس اتنی خوشخطی اور وضاحت سے لکھتیں کہ فریم کرانے کو جی چاہے۔ کام اتنی تسلی سے کرتیں کہ شام کے پانچ بج جاتے ، مگر جونئیر ز پہ سختی نہ کرتیں کہ ان کے ساتھ رکیں۔ جس نے اپنا کام نبٹا لیا وہ بخوشی جائے۔ بس ان کو چائے اور سینڈ وچ میسر رہیں ، تو مصروفیت سے کبھی نہ گھبراتیں۔ اس طرزِ زندگی کا اثر البتہ یہ ہوا کہ گداز جسم ، اچھا خاصہ فربہ ہو گیا۔

ٹک کر پڑھنے میں خاصی سست تھیں مگر تجربہ اور ذہانت سے اس کی کمی پوری کر لیتیں۔ مریضوں میں انتہائی مقبول تھیں مگر پڑھائی میں محنت نہ کرنے کے باعث پوسٹ گریجویشن نہ کر پائیں۔ رفتہ رفتہ جونئیر ز ان سے سینئیر ہوتے گئے اور پھر پوسٹگریجویشن کے بغیر بڑے ہسپتالوں میں کام کرنا ممکن نہ رہا۔

ارینجڈ میرج کی قائل نہ تھیں مگر سارا دن ہسپتال میں کام کرتے، کہاں اتنے لوگوں سے ملاقات ہوتی کہ مرضی کا جیون ساتھی مل سکے۔ ایک چھوٹا بھائی تھا جو والدین کے پاس رہتا تھا اور یہ خاندان کی مالی مدد کر تیں۔ جب ہسپتال والوں نے کہہ دیا کہ پوسٹ گریجوشن کے بنا کام ممکن نہ ہو گا تو کینیڈا چلی گئیں مگر والدین جانے کو تیار نہ ہوئے۔ وہاں اکیلی رہتی ہیں۔

آج فیس بک میموریز کی تصویر میں دکھائی دیں تو خیال آیا کہ اچھی فطرت تدبیر کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s